فتحِ مکہ کے دن
حضرت عبد اللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ نے روایت فرمایا: “میں نے فتح کے دن رسول اللہ ﷺ کو اپنی اونٹنی پر سورہ فتح کی نہایت خوبصورت آواز میں تلاوت فرماتے ہوئے دیکھا۔“ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. — — ادریس کاندھلوی — حضرت عبد اللہ بن مغفل فتحِ مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کو سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے سنتے ہیں۔
بکا کرنے والوں میں
غزوہ تبوک سے قبل آپ ان بکا کرنے والوں میں سے تھے — یعنی وہ صحابہ کرام جو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں روتے ہوئے حاضر ہوئے کیونکہ ان کے پاس مہم پر چلنے کے لیے سواری نہیں تھی۔ حضرت یامین بن عمیر رضی اللہ عنہ نے انہیں اسی وقت ایک اونٹ اور زادِ راہ خرید کر عطا فرمایا۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. — — ادریس کاندھلوی — حضرت عبد اللہ بن مغفل تبوک کے بکا کرنے والوں میں؛ حضرت یامین بن عمیر کا تحفہ۔
۞
حیات کا خاکہ
8 ہجری / فتحِ مکہ
فتحِ مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کو اپنی اونٹنی پر سورہ فتح کی تلاوت فرماتے ہوئے سنا
9 ہجری / تبوک سے قبل
حضرت یامین بن عمیر رضی اللہ عنہ کے ذریعے زادِ راہ پانے والے 'بکا کرنے والوں' میں شامل
حوالہ جات
- سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — حضرت عبد اللہ بن مغفل نے فتحِ مکہ کے دن نبی کریم ﷺ کو سورہ فتح کی تلاوت فرماتے سنا؛ تبوک سے قبل 'بکا کرنے والوں' میں شامل؛ حضرت یامین بن عمیر نے انہیں اونٹ خرید کر عطا فرمایا جلد 3 · صفحہ —
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — حضرت عبد اللہ بن مغفل سے اہم روایات جلد 3 · صفحہ 556, 632