وہ خواب جو سچا ہوا
حضرت عاتکہ بنت عبد المطلب رضی اللہ عنہا نبی کریم ﷺ کی پھوپھی تھیں۔ بدر کی طرف قریش کی روانگی سے تین راتیں پہلے، آپ نے خواب میں ایک سوار کو اونٹ پر بطحا کی وادی میں رکتے اور یوں پکارتے دیکھا: “اے دھوکے بازو! تین دن کے اندر اپنی ہلاکت کی جگہ کی طرف نکلو!” پھر وہ سوار کعبہ پر چڑھ گیا، پھر کوہِ ابو قبیس کی بلندیوں پر، اور وہاں سے ایک عظیم پتھر گرایا؛ اس کے ٹکڑے مکہ کے ہر گھر میں جا پڑے۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 230–231 — ادریس کاندھلویؒ — بدر سے تین راتیں پہلے حضرت عاتکہ کا خواب: وادی میں سوار اور وہ پتھر جس کے ٹکڑے ہر گھر تک پہنچے۔ آپ نے یہ خواب اپنے بھائی حضرت عباس رضی اللہ عنہحضرت عباس بن عبد المطلبرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنبی کریم ﷺ کے چچا، جن کے وسیلے سے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بارش کی دعا کی کو بتایا، جنہوں نے ولید بن عتبہ کو اعتماد میں لیا — اور یہ خبر پورے مکہ میں پھیل گئی۔ ابو جہل نے کھلے عام اس کا مذاق اڑایا۔ پھر ضمضم غفاری ابو سفیان کا اعلانِ جنگ لے کر مکہ میں داخل ہوا — اور انہی تین دنوں کے اندر قریش بدر کی شکست کی طرف نکل پڑے۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 240 — ادریس کاندھلویؒ — ضمضم کی آمد سے خواب کی تصدیق ہوتی ہے؛ قریش بدر کی طرف نکل پڑتے ہیں۔
حیات کا خاکہ
بنو ہاشم میں ولادت ہوئی
حضرت عبد المطلب کی صاحبزادی؛ نبی کریم ﷺ کی پھوپھی۔
آپ کا قریش کی ہلاکت کا خواب
حوالہ جات
- سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلویؒ — بدر سے تین راتیں پہلے حضرت عاتکہ کا خواب؛ سوار اور کوہِ ابو قبیس کا پتھر جلد 1 · صفحہ 230–231, 240