هبار بن الأسود

حضرت ہبار بن الاسود

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ولادت
وفات
— · —
قبیلہ
قریش

حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر حملہ

ہبار بن الاسود وہ شخص تھا جس نے نبی کریم ﷺ کی صاحبزادی حضرت زینب رضی اللہ عنہاحضرت زینب بنت محمدرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَانبی کریم ﷺ کی سب سے بڑی صاحبزادیAhl al-Bayt پر، جب آپ مدینہ کی طرف ہجرت فرما رہی تھیں، حملہ کیا — اور اسی کی وجہ سے ان کا حمل ضائع ہو گیا۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. 65–66 — ادریس کاندھلوی — ہبار بن الاسود کے حملے سے حضرت زینب رضی اللہ عنہا کا حمل ضائع ہوا۔

فتحِ مکہ پر وہ قتل کی فہرست میں شامل تھا۔ وہ بھاگ گیا، اور بعد میں جعرانہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اسلام قبول کیا، اور معاف کر دیا گیا۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 3 · pp. 65–66 — ادریس کاندھلوی — ہبار بن الاسود جعرانہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا، اسلام قبول کیا، معاف کر دیا گیا۔

۞

حیات کا خاکہ

قبل از ہجرت

حضرت زینب رضی اللہ عنہا پر ہجرت کے دوران حملہ کیا؛ ان کا حمل ضائع ہوا

8 ہجری

فتحِ مکہ پر قتل کی فہرست میں شامل

8 ہجری / جعرانہ

جعرانہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے، اسلام قبول کیا، معاف کر دیے گئے

حوالہ جات

  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — ہبار بن الاسود نے حضرت زینب پر حملہ کیا؛ بعد میں جعرانہ میں اسلام قبول کیا اور معاف کر دیے گئے جلد 3 · صفحہ 65–66