انصار کے نقیب
حضرت منذر بن عمرو رضی اللہ عنہ خزرج کے قبیلے بنو ساعدہ کے سردار تھے — اور بیعتِ عقبہ کے موقع پر نبی کریم ﷺ نے انہیں بارہ نقباء میں سے ایک نامزد فرمایا تھا۔ احد میں آپ نے مسلمان لشکر کے میسرہ کی سپہ سالاری فرمائی۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 135–136, 171 — نجیب آبادی — حضرت منذر بن عمرو بارہ نقباء میں شامل؛ احد میں میسرہ کے سپہ سالار۔
بئرِ معونہ کے ستر شہداء
جب سردار ابو براء نے نجد کے لیے معلم طلب کیے، تو نبی کریم ﷺ نے حضرت منذر رضی اللہ عنہ کو ستر بہترین صحابہ کرام — قراءِ کرام — کا سربراہ بنا کر روانہ فرمایا۔ بئرِ معونہ کے کنویں پر بنو سلیم کے قبائل نے دھوکے سے ان سب کو شہید کر ڈالا۔ جب ایک زندہ بچ جانے والے صحابی نے واپسی کا مشورہ دیا، تو ایک انصاری صحابی نے انکار کرتے ہوئے فرمایا: “میں اس مقام کو نہیں چھوڑوں گا جہاں منذر بن عمرو جیسے بزرگ شہید ہوئے ہیں۔” آپ کا نامِ گرامی اس قدر محبوب تھا کہ حضرت زبیر بن العوام رضی اللہ عنہ نے بعد میں اپنے فرزند کا نام آپ ہی کے نام پر منذر رکھا۔ 2 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 511–512 — کاندھلوی — حضرت منذر ستر قراء کو لے کر بئرِ معونہ تشریف لے گئے اور وہیں شہید ہوئے؛ حضرت زبیر نے بعد میں اپنے فرزند کا نام ان کے نام پر رکھا۔
حیات کا خاکہ
مدینہ منورہ میں ولادت
بنو ساعدہ کے سردار؛ خزرج سے تعلق۔
انصار کے بارہ نقباء میں شامل
احد میں میسرہ کی سپہ سالاری
بئرِ معونہ میں جامِ شہادت نوش کیا
ستر قراء کی قیادت فرماتے ہوئے۔
حوالہ جات
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت منذر بن عمرو بارہ نقباء میں شامل؛ احد میں میسرہ کی سپہ سالاری جلد 1 · صفحہ 135–136, 171
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — حضرت منذر ستر قراء کو لے کر بئرِ معونہ تشریف لے گئے اور وہیں شہید ہوئے جلد 1 · صفحہ 511–512