فتحِ مکہ پر امان
حضرت صفوان بن امیہ بنو جمح کے سردار تھے، اور امیہ بن خلف کے بیٹے تھے جو بدر میں مارا گیا۔ فتحِ مکہ کے موقع پر آپ خوف سے بھاگ نکلے، لیکن نبی کریم ﷺ نے حضرت عمیر بن وہب رضی اللہ عنہحضرت عمیر بن وہبرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُنبی کریم ﷺ کو شہید کرنے آئے اور جب نبی کریم ﷺ نے ان کا راز ظاہر فرمایا تو اسلام قبول فرمایا کی درخواست پر انہیں امان عطا فرمائی، اپنی چادر بطورِ نشانِ امان بھیجی، اور انہیں اپنے دین کا فیصلہ کرنے کی مہلت عنایت فرمائی۔ 1 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 197–199 — کاندھلوی — فتحِ مکہ پر صفوان کو امان عطا ہوئی؛ نبی کریم ﷺ نے اپنی چادر بطورِ ضمانت بھیجی اور فیصلے کی مہلت دی۔
سخاوت سے دل جیتنا
ابھی منکر ہی تھے کہ صفوان مسلمانوں کے ساتھ حنین اور طائف کے میدان میں چلے، یہاں تک کہ زرہیں بھی ادھار دیں۔ جعرانہ میں اونٹوں اور بھیڑوں سے بھری ایک وادی کو دیکھتے ہوئے نبی کریم ﷺ نے پوری وادی آپ کو عطا فرما دی۔ مغلوب ہو کر حضرت صفوان نے فوراً اسلام قبول کر لیا اور ارشاد فرمایا: “ایسی سخاوت صرف نبی کا دل ہی کر سکتا ہے۔” 2 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 199–200 — کاندھلوی — نبی کریم ﷺ نے جعرانہ میں صفوان کو مویشیوں سے بھری وادی عطا فرمائی؛ صفوان نے اسلام قبول کر لیا اور فرمایا کہ ایسی سخاوت صرف نبی کا دل ہی کر سکتا ہے۔
حیات کا خاکہ
مکہ مکرمہ میں ولادت
بنو جمح سے تعلق؛ قریش کے سردار۔
فتحِ مکہ پر امان عطا ہوئی، فیصلہ کرنے کی مہلت بھی ملی
حنین اور وادی بھر مویشی — قبولِ اسلام
مکہ مکرمہ میں وفات
حوالہ جات
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — فتحِ مکہ پر صفوان کو امان؛ جعرانہ میں وادی کا تحفہ؛ ان کا قبولِ اسلام جلد 1 · صفحہ 197–200