سب سے پہلے جواب دینے والے
جب حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی نے مسلسل تین دن عراق کے محاذ کے لیے رضاکاروں کی پکار لگائی اور کوئی بزرگ صحابی کھڑے نہ ہوئے، تو حضرت ابو عبید رضی اللہ عنہ سب سے پہلے کھڑے ہوئے۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی نے اس فوری جواب پر آپ کو بزرگ صحابہ کرام پر بھی سپہ سالار مقرر فرما دیا، اور ارشاد فرمایا: “قیادت اسے ملتی ہے جو اس کی طرف سب سے پہلے دوڑے۔“ 1 الفاروق · pp. 109–140 — علامہ شبلی نعمانی — حضرت عمر کی تین دن کی عراق کی پکار کے بعد ابو عبید کا رضاکار بننا اور سپہ سالار مقرر ہونا۔
فتوحات اور پل
آپ نے نمارق میں جابان کو شکست دی، اور اس کے بعد نرسی کو۔ پلِ فرات (جسر) کی جنگ میں ایرانیوں نے آپ کے مقابلے میں ہاتھی لا کھڑے کیے۔ آپ بہمن کے ہاتھی کے ہاتھوں زمین پر گرے اور روندے جا کر شہادت پائی۔ 2 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 322 — نجیب آبادی — ابو عبید پلِ فرات پر بہمن کے ہاتھی کے نیچے روندے جا کر شہید ہوئے۔
آپ مختار کے والد تھے۔ 3 الفاروق · pp. 109–140 — علامہ شبلی نعمانی — ابو عبید مختار کے والد ہیں۔
حیات کا خاکہ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تین دن کی عراق کی پکار کے بعد سب سے پہلے رضاکار بنے؛ سپہ سالار مقرر ہوئے
نمارق میں جابان اور پھر نرسی کو شکست دی
بہمن کے ہاتھی کے نیچے روندے جا کر جامِ شہادت نوش کیا
حوالہ جات
- الفاروق — علامہ شبلی نعمانی — ابو عبید کی رضاکارانہ پیشکش، تقرری، اور پلِ جسر پر شہادت صفحہ 109–140
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — ابو عبید کا تین دن کی خاموشی کے بعد رضاکار بننا؛ پلِ جسر کی جنگ؛ بہمن کے ہاتھی کے نیچے روندے گئے جلد 1 · صفحہ 322