المغيرة بن شعبة

حضرت مغیرہ بن شعبہ

رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ
ولادت
تقریباً 600 عیسوی
وفات
670 عیسوی · 50 ہجری
قبیلہ
بنو ثقیف (طائف)
زمرہ
راویانِ حدیث

ثقیف کا ایک ذہین صحابی

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ طائف کے ثقیف سے تعلق رکھتے تھے، اور اپنی غیر معمولی ذہانت کے لیے مشہور تھے۔ جب آپ اسلام قبول فرمانے کے لیے آئے تو ساتھ وہ مال بھی لائے جو آپ نے قتل کیے گئے ساتھیوں سے ناجائز طور پر حاصل کیا تھا، تو نبی کریم ﷺ نے آپ کا اسلام قبول فرمایا لیکن وہ مال لینے سے انکار کر دیا، کیونکہ وہ حرام طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔ 1 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 400–401 — ادریس کاندھلوی — حضرت مغیرہ نے اسلام قبول کیا؛ نبی کریم ﷺ نے ناجائز طور پر حاصل کیا گیا مال لینے سے انکار فرمایا۔

محافظ، سفیر اور گورنر

حدیبیہ میں آپ ہتھیار لے کر نبی کریم ﷺ کے پیچھے کھڑے رہے، اور قریش کے سفیر عروہ جب بھی آپ ﷺ کی داڑھی کی طرف ہاتھ بڑھاتے، آپ ان کے ہاتھ پر مارتے۔ تبوک کے بعد آپ کو طائف میں لات بت کو منہدم فرمانے کے لیے بھیجا گیا۔ قادسیہ میں آپ فارسی سپہ سالار رستم کے سامنے سفیر کے طور پر تشریف لے گئے، اور نہ دھمکی نہ لالچ سے ہلے۔ اور آپ نے ایک سیاستدان کی مہارت سے کوفہ اور بصرہ کی گورنری کی۔ 2 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 203, 343, 385 — نجیب آبادی — حضرت مغیرہ حدیبیہ میں؛ لات کو منہدم فرمانا؛ رستم کے سفیر؛ کوفہ کے گورنر۔ آپ نے کوفہ میں وفات پائی۔

۞

حیات کا خاکہ

تقریباً 600 عیسوی

ثقیف میں ولادت

6 ہجری

حدیبیہ میں ہتھیار لے کر نبی کریم ﷺ کے پیچھے کھڑے ہوئے

تبوک کے بعد

طائف میں لات بت کو منہدم فرمایا

قادسیہ

فارسی سپہ سالار رستم کے سامنے سفیر بنے

50 ہجری / 670 عیسوی

کوفہ کے گورنر کی حیثیت سے وفات

حوالہ جات

  • تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت مغیرہ حدیبیہ میں؛ رستم کے سفیر؛ لات کو منہدم فرمانا؛ کوفہ کے گورنر جلد 1 · صفحہ 203, 343, 385
  • سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — حضرت مغیرہ کا قبولِ اسلام؛ نبی کریم ﷺ کا ناجائز طریقے سے لیے گئے مال کو لینے سے انکار جلد 1 · صفحہ 400–401