مزینہ کے سردار
حضرت نعمان بن مقرن رضی اللہ عنہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بنو مزینہ کے چار سو افراد کو لے کر حاضر ہوئے جنہوں نے اسلام قبول فرمایا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی کے دورِ خلافت میں جب فارسیوں کا عظیم لشکر نہاوند میں جمع ہوا، تو حضرت عمر رضی اللہ عنہحضرت عمر بن الخطابرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُدوسرے خلیفہ؛ الفاروق، جنہوں نے اسلامی ریاست کو وسعت بخشی نے حضرت نعمان کو مسجد میں نماز میں مشغول پایا اور آپ کو سپہ سالار مقرر فرمایا — اور حضرت نعمان نے قبول فرمایا، اس درخواست کے ساتھ کہ آپ کو ایک مجاہد کی حیثیت سے خدمت کا موقع دیا جائے، نہ کہ خراج وصول کرنے والے کی۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 363–364 — نجیب آبادی — حضرت نعمان نہاوند کے لشکر کے سپہ سالار مقرر ہوئے۔
فتح اور شہادت ایک ساتھ
لشکر کو ترتیب دیتے ہوئے حضرت نعمان رضی اللہ عنہ نے یاد فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کیسے جنگ کو سورج ڈھلنے اور اللہ کی نصرت اترنے تک مؤخر فرماتے تھے، اور آپ نے بلند آواز سے دعا فرمائی: “اے اللہ! آج کے دن نعمان کو شہادت عطا فرما، اور مسلمانوں کو فتح۔” جب حملہ شروع ہوا تو آپ سب سے پہلے شہید ہوئے — اور آپ کی شہادت کو فتح ملنے تک خفیہ رکھا گیا، تاکہ فتح اور آپ کی شہادت کی خبر لشکر تک ایک ساتھ پہنچے، بالکل ویسے جیسے آپ نے دعا فرمائی تھی۔ 2 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 499–500 — کاندھلویؒ — نہاوند میں حضرت نعمان کی فتح اور شہادت کی دعا ایک ساتھ قبول ہوئی؛ فتح تک آپ کی شہادت کو راز رکھا گیا۔ اس دن کو فتح الفتوح یعنی فتحوں کی فتح کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
حیات کا خاکہ
بنو مزینہ میں ولادت ہوئی
مزینہ کے 400 افراد کو اسلام میں داخل فرمایا
نہاوند میں سپہ سالار رہے اور جامِ شہادت نوش فرمایا
آپ کی فتح اور شہادت کی دعا ایک ساتھ قبول ہوئی۔
حوالہ جات
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلویؒ — حضرت نعمان کو سپہ سالار مقرر فرمایا گیا؛ آپ کی فتح اور شہادت کی دعا؛ عین فتح کے لمحے آپ کی شہادت جلد 1 · صفحہ 499–500
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت نعمان نے نہاوند میں تقریباً 30,000 کے لشکر کی قیادت فرمائی؛ آپ کی شہادت اور آپ کی شہادت کا راز رکھنا جلد 1 · صفحہ 363–364