حضرت علی رضی اللہ عنہ کی والدہ
حضرت فاطمہ بنت اسد رضی اللہ عنہا بنو ہاشم سے تعلق رکھتی تھیں اور بنو ہاشم میں نکاح کرنے والی پہلی ہاشمی خاتون تھیں — نبی کریم ﷺ کے چچا اور محافظ حضرت ابو طالب سے۔ اسی نکاح سے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہحضرت علی بن ابی طالبرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُچوتھے خلیفہ؛ نبی کریم ﷺ کے چچا زاد بھائی اور داماد کی ولادت ہوئی۔ 1 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 427 — نجیب آبادی — فاطمہ بنت اسد، حضرت علی کی والدہ؛ بنو ہاشم میں نکاح کرنے والی پہلی ہاشمی خاتون؛ اسلام قبول فرمایا اور ہجرت فرمائی۔
یتیم نبی کریم ﷺ کے لیے پناہ گاہ
جب حضرت عبد المطلب کی وفات ہوئی، تو یتیم نبی کریم ﷺ حضرت ابو طالب کے گھر تشریف لائے، جنہوں نے آپ ﷺ کو اپنی اولاد سے بھی زیادہ عزیز رکھا — یوں حضرت فاطمہ کا گھر نبی کریم ﷺ کے ابتدائی برسوں کی پناہ گاہ بنا۔ 2 سیرتِ مصطفیٰ · Vol 1 · pp. 27 — ادریس کاندھلوی — حضرت عبد المطلب کی وفات کے بعد یتیم نبی کریم ﷺ ابو طالب کے گھر آئے۔ آپ کو یہ شرف بھی حاصل ہوا کہ اسلام قبول فرمایا اور مدینہ منورہ ہجرت فرمائی، اور وہاں ابتدائی دور میں — 4 ہجری میں وفات پائی۔ 3 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 186 — نجیب آبادی — فاطمہ بنت اسد، حضرت علی کی والدہ، 4 ہجری کی وفیات میں شامل۔
حیات کا خاکہ
بنو ہاشم میں ولادت
بنو ہاشم میں نکاح کرنے والی پہلی ہاشمی خاتون — حضرت ابو طالب سے۔
یتیم نبی کریم ﷺ کو ابو طالب کے گھر میں پناہ دی
اسلام قبول فرمایا اور مدینہ منورہ ہجرت فرمائی
مدینہ منورہ میں وفات
حوالہ جات
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — فاطمہ بنت اسد، حضرت علی کی والدہ؛ بنو ہاشم میں نکاح کرنے والی پہلی ہاشمی خاتون؛ 4 ہجری میں وفات جلد 1 · صفحہ 186, 427
- سیرتِ مصطفیٰ — ادریس کاندھلوی — حضرت عبد المطلب کی وفات کے بعد یتیم نبی کریم ﷺ ابو طالب کے گھر میں آئے جلد 1 · صفحہ 27