ثقیف کا وفد
حضرت عثمان بن ابی العاص رضی اللہ عنہ 9 ہجری میں نبی کریم ﷺ کے پاس آنے والے ثقیف کے وفد کے سب سے کم عمر فرد تھے۔ انہوں نے چار رعایتیں مانگیں؛ نبی کریم ﷺ نے تین عطا فرما دیں لیکن نماز سے استثنیٰ کی درخواست رد کر دی — یہ ارشاد فرماتے ہوئے کہ “اس دین میں کوئی بھلائی نہیں جس میں رکوع نہ ہو۔” پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: “اے رسول اللہ ﷺ، مجھے قرآن کریم تعلیم فرمائیں اور مجھے میری قوم کا امام بنا دیں۔“ 1 حیاتُ الصحابہ · Vol 1 · pp. 205 — کاندھلوی — ثقیف کے وفد میں عثمان بن ابی العاص؛ وہ نبی کریم ﷺ سے قرآن تعلیم فرمانے اور اپنی قوم کا امام بنانے کی درخواست کرتے ہیں۔
طائف کے گورنر
نبی کریم ﷺ نے انہیں طائف کے لوگوں کی امامت اور قیادت پر مقرر فرمایا۔ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہحضرت ابو بکر صدیقرَضِيَ اللَّهُ عَنْهُپہلے خلیفہ؛ نبی کریم ﷺ کے سب سے قریبی ساتھی نے اپنی خلافت میں بھی انہیں طائف کا گورنر برقرار رکھا۔ 2 تاریخِ اسلام · Vol 1 · pp. 317 — نجیب آبادی — حضرت ابو بکر کی خلافت میں عثمان بن ابی العاص طائف کے گورنر۔ آپ بعد میں بصرہ منتقل ہو گئے، جہاں آپ نے وفات پائی۔
حیات کا خاکہ
بنو ثقیف سے تعلق
ثقیف کے وفد کے ساتھ آئے
نبی کریم ﷺ نے انہیں قرآن کریم تعلیم فرمایا اور اپنی قوم کا امام بنایا۔
طائف کے گورنر
حوالہ جات
- حیاتُ الصحابہ — کاندھلوی — ثقیف کے وفد میں عثمان؛ مذاکرات؛ وہ اپنی قوم کا امام بنائے جانے کی درخواست کرتے ہیں جلد 1 · صفحہ 205
- تاریخِ اسلام — نجیب آبادی — حضرت ابو بکر کے دور میں عثمان بن ابی العاص طائف کے گورنر جلد 1 · صفحہ 317